اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، انڈونیشیا میں اسلامی جمہوریہ ایران کے ثقافتی مشیر نے انڈونیشی فلمساز اور پروڈیوسر فرلی حلیم کو شہید رہبر سے عقیدت اور ایرانی عوام کے ساتھ اظہارِ ہمدردی پر سراہا۔
فرلی حلیم نے ایرانی خواتین اور لڑکیوں کے شہید رہبر کی جدائی پر غم و الم کے اظہار پر مبنی ایک دستاویزی فلم دیکھنے کے بعد اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر لکھا: ’’مجھے نہیں معلوم کیوں، یہ فلم دیکھ کر بے اختیار آنسو نکل آئے۔‘‘
یہ ردعمل ’’ایک نشانی اور ہزاروں سسکیاں‘‘ کے عنوان سے بنائی گئی ایک سڑک پر تیار کی گئی دستاویزی فلم کے نشر ہونے کے بعد سامنے آیا، جس میں ایرانی عوام کے مختلف طبقات سے گفتگو کے ذریعے شہید رہبر کی نسبت سے منسوب عمامے اور دیگر علامتوں کو دیکھ کر خواتین اور لڑکیوں کے جذبات کی عکاسی کی گئی ہے۔
دستاویزی فلم سوشل میڈیا پر نشر ہونے کے بعد مختلف ثقافتی اور سیاسی شخصیات کی توجہ کا مرکز بنی۔ جکارتہ میں ایران کے ثقافتی مشیر یحییٰ جہانگیری نے بھی اسے اپنے ذاتی اکاؤنٹ پر شیئر کیا۔
ویڈیو میں ایرانی خواتین اور لڑکیوں کے جذبات دیکھ کر فرلی حلیم بھی متاثر ہوئے اور انہوں نے یحییٰ جہانگیری کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا: ’’مجھے نہیں معلوم کیوں، یہ فلم دیکھ کر بے اختیار آنسو نکل آئے۔‘‘
فرلی حلیم کے جذباتی ردعمل پر یحییٰ جہانگیری نے بھی ان کا شکریہ ادا کیا اور شہید رہبر اور ایرانی عوام کے ساتھ ان کی ہمدردی کو سراہا۔
فرلی حلیم انڈونیشیا کی فلمی صنعت سے وابستہ معروف فنکاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے اپنے فنی سفر کا آغاز اداکاری سے کیا، بعد ازاں فلم سازی، پروڈیوسنگ اور فلمی منصوبوں کی نگرانی کے شعبوں میں بھی فعال ہوگئے۔
ان کی ہدایت کاری اور پروڈیوس کردہ فلم ’’Takkan Kubiarkan Kau Menangis‘‘، جس کا مفہوم ’’میں تمہیں رونے نہیں دوں گا‘‘ ہے، بھی ان کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر موجود ہے۔ سوشل میڈیا صارفین نے اس عنوان اور ایرانی خواتین کے غم پر ان کے حالیہ جذباتی ردعمل کے درمیان مماثلت کو بھی نمایاں کیا۔
فرلی حلیم اس وقت محض اداکار کے بجائے فلمساز، پروڈیوسر اور آزاد فلمی پروڈکشن ادارے کے منتظم کی حیثیت سے انڈونیشیا کی فلمی صنعت میں سرگرم ہیں۔ ان کا یہ ردعمل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ فن اور سینما مختلف قوموں کے درمیان جذباتی اور ثقافتی روابط قائم کرنے کا مؤثر ذریعہ بن سکتے ہیں۔
آپ کا تبصرہ